اطلاعات کے مطابق زلزلے سے صدارتی محل سمیت سیکڑوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں ہیں، ہزاروں افراد ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور ہر طرف لاشیں ہی لاشیں بکھری پڑی ہیں،زلزلے کے وقت اقوام متحدہ کے مشن میں شامل پاکستانی پولیس کا 253 اہلکاروں پر مشتمل دستہ بھی وہاں موجود تھا،جن کے بارے میں اطلاع ہے کہ تمام اہلکار محفوظ ہیں،ہیٹی کے صدر نے عالمی برادری سے فوری طور پر امداد دینے اور مدد کرنے کی اپیل کی ہے،انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشن کے چیف کی ہلاکت کی بھی تصدیق کر دی ہے،زلزلے سے ذرائع آمدورفت اور نظام زندگی بری طرح متاثر ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ اوپرنس میں شدید زلزلے سے ہزاروں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7 ریکارڈ کی گئی ہے۔یہ زلزلہ ہیٹی کی دو سو سالہ تاریخ میں آنے والا شدید ترین زلزلہ تھا جس کا مرکز شہر سے 15 میل دور مغرب میں تھا۔ہیٹی کے صدر کے مطابق اقوام متحدہ کے امن مشن کا سربراہ بھی ہلاک ہو گیا ہے،جبکہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انکے 100 سے زائد ملازمین لاپتہ ہیں۔زلزلے کے بعد ہیٹی،کیوبا،جمہوریہ ڈومنیکن اور بہاماس میں سونامی وارننگ جاری کر دی گئی۔خوش قسمتی سے اقوام متحدہ مشن میں تعینات پاکستانی اہلکار محفوظ رہے۔زلزلے سے صدارتی محل اور اقوام متحدہ کے دفتر سمیت متعدد مکانات تباہ ہو گئے۔ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔امریکی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ زلزلے سے دارالحکومت پورٹوپرنس کے متعدد مکانات گر گئے ہیں اور گلیوں میں لاشیں بکھری پڑی ہیں۔اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد اس کے سیکڑوں کارکن لاپتہ ہیں۔ہیٹی میں اقوام متحدہ کی امن فورس کے 9 ہزار اہلکار تعینات ہیں،جن میں پاکستانی پولیس کا 253 اہلکاروں پر مشتمل ایک دستہ بھی شامل ہے۔ہیٹی کے صدر نے عالمی برادری سے فوری طور پر امداد کی اپیل کی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی ہیٹی کی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
18 مارچ 2010 - 20:30
News ID: 175956
لاطینی امریکا کا ملک ہیٹی منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہولناک زلزلے سے لرز اٹھا،ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے میں ایک لاکھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں،جبکہ ہیٹی کے وزیراعظم جین میکس کے مطابق ہلاک افراد کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہو سکتی ہے۔